ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نیشنل ہیرالڈ اخبار معاملہ میں ای ڈی کی شیوکمار سے پوچھ گچھ

نیشنل ہیرالڈ اخبار معاملہ میں ای ڈی کی شیوکمار سے پوچھ گچھ

Sat, 08 Oct 2022 10:56:18    S.O. News Service

بنگلورو، 8؍اکتوبر (ایس او نیوز) نیشنل ہیرالڈنیوز پیپر معاملہ کی جانچ میں شامل ہونے کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار آج یہاں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کے ہیڈکوارٹرس پہنچے۔ اے جے ایل اور ینگ انڈین (وائی آئی) سے متعلق مالی لین دین سے متعلق چند حقائق کی ایجنسی جانچ کررہی ہے۔اس سلسلہ میں شیوکمار کو ای ڈی دفتر طلب کیاگیا تھا۔ شیوکمار اوران کے بھائی رکن پارلیمان ڈی کے سریش کے بیانات ریکارڈ کرنے ای ڈی نے دونوں کو سمن جاری کئے تھے۔

قبل ازیں کانگریس لیڈر گیتا ریڈی، شبیر علی اور پی سدرشن بھی اس جانچ میں حاضر ہوئے تھے۔ ان سے ینگ انڈیا اور ڈوٹیکس کے تعلق سے سوالات کئے گئے۔ڈوٹیکس کمپنی کا دفتر کولکتہ میں آکاش دیپ نامی ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں واقع ہے۔ڈوٹیکس کمپنی پر الزام ہے کہ اس کمپنی نے ینگ انڈین کو مبینہ طور پر ایک کروڑ روپئے ادا کئے تھے۔ وائی آئی کو 2010 میں یہ قرضہ دیاگیا تھا۔ڈوٹیکس سے دیاگیا یہ قرضہ واپس نہیں دیا گیا۔

ای ڈی ذرائع کے مطابق جب یہ قرضہ ادا کیا گیا تو وائی آئی کو اس وقت انکارپوریٹ کیا گیاتھا۔ اس معاملہ میں ای ڈی کو یہ شبہ ہے کہ وائی آئی کے ذریعہ یہ رقم نیشنل ہیرالڈ معاملہ ٹائم لائن منی لانڈرڈ کی گئی تھی۔یکم نومبر 2012 میں بی جے پی کے سابق راجیہ سبھا رکن سبرامنیم سوامی نے نیشنل ہیرالڈ اخبار کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔26جون2014میں کانگریس لیڈر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو سمن جاری کئے گئے تھے۔اس معاملہ میں ای ڈی نے یکم اگست 2014 میں انسداد منی لاڈرنگ معاملہ درج کیا تھا۔19دسمبر2015 میں کانگریس نے اس معاملہ کو باطل قرار دینے کامطالبہ کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ 2019 میں نیشنل ہیرالڈ اخبار کی تقریباً 64کروڑ روپئے کی جائیداد ضبط کرلی گئی تھی۔ ینگ انڈین پرائیویٹ لمیٹڈ سونیاگاندھی، راہل گاندھی، موتی لال وورا اور آسکرفرنانڈیز کی ملکیت ہے۔موتی لال وورا کانگریس پارٹی کے سب سے قدیم خازن ہیں۔جن کا 2020 میں انتقال ہوگیا اور فرنانڈیز کا انتقال 2021میں ہوگیا ہے۔ جانچ کرنے والی ٹیم نے جب راہل گاندھی سے ینگ انڈین کے تعلق سے سوال کیا تو جواب دیاگیا کہ تمام لین دین وورا نے کئے ہیں۔دریں اثناء شیوکمار نے میڈیا کو بتایا کہ وہ 60سال کے ہوچکے ہیں۔اب سیاست میں مزید 6یا سات سال رہ سکتے ہیں۔


Share: